اشاعتیں

جنوری 20, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

طلبہ کرام کے لیے کچھ ضروری امور

 🌹 طلبۂ کرام کے لیے کچھ ضروری امور 🌹 ✍️ محمد شہاب الدین علیمی بڑے مقاصد کڑی محنت اور لمبا وقت طلب کرتے ہیں ۔ بالخصوص علم دین مصطفی ﷺ حضرت امام ابو یوسف قاضی القضاۃ فی الاسلام رضی اللّٰهُ تعالی عنہ فرماتے ہیں : إن هذا العلمَ لا يعطيك بعده شيئا حتى تعطيَه كلَّه یعنی جب تک تم علم دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان نہ کر دوگے ، تب تک تمہیں علم کا کچھ بھی حصہ حاصل نہ ہوگا۔ جو شخص علم کی طلب میں پریشانیاں اور دقتیں برداشت کرتا ہے ، آسائش و آرام کا خیال نہیں کرتا ہے ، میٹھی میٹھی نیند کو قربان کرتا ہے ، جو کچھ مل جائے اسی پر صبر و قناعت کر لیتا ہے ، لوگوں سے تعلقات کم رکھتا ہے ، وہی شخص کامیاب ہوتا ہے امام شافعی رضی اللّٰهُ تعالی عنہ فرماتے ہیں : أخي ! لن تنال العلم إلا بستة سأنبئك عن تفصيلها ببيان ذكاء و حرص واجتهاد و بلغة إرشاد أستاذ و طول زمان یعنی اے بھائی! چھ چیزوں کے بغیر تجھے علم حاصل نہیں ہو سکتا ، وہ چیزیں یہ ہیں *ذہن روشن اور تیز ہو ، علم کی بہت زیادہ لالچ ہو ، راہ علم میں سخت محنت و جد و جہد ہو ، ہلکی پھلکی خوراک پر قناعت ہو ، استاذ کی رہنمائی ہو اور ایک لمبا عرصہ طلب علم میں صرف ہ...

مبلغ اسلام ، مختصر سوانح

 عرس مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مہاجر مدنی علیہ الرحمہ  دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی کے بانیِِ روحانی داعی دین مبلغ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ نے تقریبا سَتّر ہزار لوگوں کو کلمہ پڑھایا ۔اپنے ذاتی مال سے بہت سارے ممالک کا دورہ کر کے اسلام کو پھیلایا ۔تبلیغ کے لیے افریقہ کے ایک ایسی جگہ بھی پہنچے جہاں کے لوگ ننگے رہتے تھے ، کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ جب آپ نے ان کو پہننے کے لیے کپڑے دیے تو وہ اتنے جاہل و گنوار تھے کہ قمیص کو پیر میں ڈالنے لگے اور پاجامے کو ہاتھوں میں پہننے لگے ۔ ایسے لوگوں کو بھی مبلغ اسلام نے کلمہ پڑھایا ۔ یہ مبلغ اسلام پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ ایسے جاہل اور بدّو لوگوں  کے اندر بھی اسلام کی شمع روشن کی۔  اعلی حضرت رضی اللّٰهُ تعالی عنہ کے چہیتے خلیفہ تھے ۔ ان کے بارے میں اعلی حضرت رضی اللّٰهُ تعالی عنہ لکھتے ہیں : عبد علیم کے علم کو سن کر جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں ٢٢ ذی الحجہ شریف کو مدینہ شریف میں آپ کا انتقال ہوا اور جنت البقیع میں آپ کو دفن کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر انور پر رحمت کی بارش ف رمائے ۔

شیخ الحدیث حضور قمر العلماء کا انداز تدریس

 🌹حضور قمر العلما کا انداز تدریس _مشاہدات کے آئینے میں 🌹 ✍️ محمد شہاب الدین علیمی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا علماء کرام کی عزت و عظمت کا ذکر فرمایا ہے۔ احادیث رسول ﷺ میں بھی علماء دین کے فضائل و مناقب کا جگہ جگہ تذکرہ ہے ۔ ان فضیلتوں کی جامع شخصیات میں حضور قمر العلماء حضرت علامہ و مولانا محمد قمر عالم قادری صاحب قبلہ کا نام حد درجہ نمایاں ہے ۔ جو علم آپ کے سینے میں موجود ہے ، وہ کردار سے جھلکتا ہے ، اخلاق اس کی گواہی دیتے ہیں ، گفتار اس کا ثبوت دیتے ہیں ۔آپ کی ذات بابرکات *العالم ھو العامل* کی مصداق ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ایسی بافیض شخصیت کے سائے تلے مجھے سات سال تک علم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ حضرت کے پڑھانے کا انداز کیا تھا ، اس کو آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ خیر الکلام ما قل و دل سب سے بہترین کلام وہ ہے جو مختصر ہو اور مقصد تک پہنچا دے ۔ حضرت شیخ صاحب قبلہ کی عادت کریمہ تھی کہ بہت مختصر کلام فرماتے لیکن وہ کلام اپنے افراد کو جامع اور محیط ہوتا ۔ کتابوں کی تعریفات کے علاوہ حضرت اپنی مختصر اور جامع مانع تعریف بیان فرماتے ۔ مثلا دلالت وضعیہ لفظیہ : وضعِ واضع کے سبب لفظ ...

المولد النبوي الشريف

 المولد النبوي الشريف  محمد شهاب الدين العليمي  الطالب بكلية أصول الدين ، جامعة الأزهر الشريف  الحمد لله الذي شرف هذا العالم بمولد نبيه ، و خصه بمحاسن أخلاقه ،و الصلاة والسلام على أفضل عباده و على آله و أصحابه . أما بعد! قال تعالى : لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عندتم حريص عليكم بالمؤمنين رؤوف رحيم نبينا عليه الصلاة والسلام رحمة مهداة للعالمين ، و من الله علينا إذ بعث فينا أفضل خلقه و جعلنا من أمته الغراء ، قال الله عزوجل: "لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولا من انفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين" ( آل عمران : 164) ، وهو سيد الأولين والآخرين و حبيب رب العالمين الذي خلق نوره من نوره و آدم بين الماء والطين ، و نقله من الأصلاب الطاهرة إلى الأرحام الزكية ، و فضله على الأنبياء والملٰئكة وهو سيدنا و مولانا و مأوانا و ملاذنا و ذخرنا أبو القاسم محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤى بن غالب بن فهر بن مالك بن نضر . وهو عليه الصلاة والسلام من قريش أفضل قبائل العرب ...

مدارس کے حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں ؟

 مدارس کے حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں ؟ ✍️محمد شہاب الدین علیمی  دین اسلام کی تعلیمات کی بنیاد مدارس پر ہے ، مدارس اسلامیہ دین کا مضبوط قلعہ ہیں ، اگر یہ سلامت نہ رہے یا مضبوط نہ ہوئے تو پھر ہمارے عقیدے محفوظ نہ رہیں گے ، ہمارا دین لوٹ لیا جائےگا ، اگر ہم نے اپنے مدارس کو مضبوطی نہ دی تو ہم اپنی عوام کا عقیدہ محفوظ نہ رکھ سکیں گے ، اس کے لیے امیر لوگ بالخصوص خانقاہیں جو پیسوں سے بھرتی جا رہی ہیں اور اہلیان خانقاہ دین کا کام ایک پیسے کا نہیں کرتے ہیں ، صرف اپنا بنگلہ بڑا ہوتا جارہا ہے ، دن بہ دن گاڑیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ( الا ما شاء اللّٰہ ) ، ان کی ذمہ داری ہے خوب پیسہ خرچ کریں ، تاکہ کتاب ، طلبہ کے قیام و طعام ، روشنی و دیگر ضروریات اور بہترین اساتذہ کی کمی نہ ہو ۔ دوسری چیز یہ کہ مدارس کے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ٹرانسفارم ہو ، جو کچھ مدارس کے ذمہ دار علماء کی تنظیم بنائے ، اور ہر ایک کو چند ( مثلا دس ) مدرسوں کی ذمہ داری دے اور وہ ان دس مدارس سے ایک دو اساتذہ کو لے کر ان سب کی تنظیم بنا لیں ۔  یہ کام اسی وقت ہوگا جب خلوص اور نیک نیتی ہو ، ...

ایک شعر کی تشریح

 اس شعر کی تشریح  عبد علیم کے علم کو سن کر  جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رسالہ بنام "الاستمداد علی اجیال الارتداد" تصنیف فرمایا جس میں٣٦٠ اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ تحریر فرمایا ، جس میں حضور اکرم ﷺ کی مدح ہے ، اس کے بعد بشکل اشعار دیوبندیوں اور وہابیوں کے ٢٣٠ اقوال کفر و ضلال کا بیان ہے ، اور اخیر میں اپنے خلفاء کرام کا تذکرہ فرمایا ہے ، جس کی ابتدا یوں ہے تیرے رضا پر تیری رضا ہو اس سے غضب تھرّاتے یہ ہیں بلکہ رضا کے شاگردوں کا نام لیے گھبراتے یہ ہیں اس کا گیارہواں شعر ہے عبدِ علیم کے علم کو سن کر  جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں بہل کا معنی بیل گاڑی ہوتا ہے  شعر کا مطلب: اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما رہے ہیں کہ میرے عظیم خلیفہ حضرت مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی کے فہم و ادراک ، بصیرت و لیاقت اور علم کو جب یہ دیوبندی اور وہابی سنتے ( دیکھتے )ہیں تو فوراً وہاں سے اپنی جہالت کی گاڑی لے کر بھاگ نکلتے ہیں ، اور میرے عبد علیم سے مقابلے کرنے کی جرأت و ہمت ان میں باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔

مجدد اعظم کے اشعار میں مدح غوث اعظم

 مدح غوث اعظم در اشعار مجدد اعظم اللہ تبارک و تعالی کی بنائی ہوئی یہ زمیں اولیاء کرام علیھم رحمت الرحمن کے مقدس وجود سے کسی خالی نہ ہوئی ۔ اگر یہ نفوس قدسیہ نہ ہوں تو زمین کو قرار نہ ہو اور پیارے گناہوں کے باعث زمین تباہ و برباد ہو جائے ۔ ان ذرات مسمارک میں میرمیران، پیر پیراں غوث صمران ، شیخ لانانی محبوب سبحانی، شہباز لامکانی قندیل نورانی حضور غوث اعظم عبد القادر جیلان بغدادی رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات تعارف کی محتاج نہیں۔ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے آپ کو بن مانگے ایسے ایسے کمالات عطا ہوئے جن کو حاصل کرنے کے لئے برسوں برس ریاضت و مجاہدہ کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ اعلی حضرت فرماتے ہیں : جیسے مانگے نہ پائیں جاہ والے وہ بن مانگے تجھے حاصل ہے یا غوث - یعنی بڑے بڑے اولیاء کرام کو جو کمالات مانگے پڑھی نہیں ملتے ہیں. اے پیارے غوث پاک اور کمالات اللہ تعالی نے آپ کو بغیر مانگے ہی عطا فر ما دیا ہے ۔ " اللہ تعالی نے آپ کا مقام اتنا بلند فرمایا کہ یہ جملہ آپ کی زبان اقدس سے ارشاد ہوا " قَدَمِي هَذِهِ عَلَى رُقَبَةٍ كُل ولی الله " یعنی میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے ۔ یہ بات...

स्वतन्त्रता संग्राम के सेनानी

 بسم اللہ الرحمن الرحیم                           स्वतंत्रता संग्राम के सेनानी                     ✍️ मुहम्मद शहाबुद्दीन अलीमी दुनिया में वही कौम और पीढ़ियाँ सम्मान और इज्ज़त से ज़िन्दा रहती हैं, जो अपने इतिहास और अपनी तारीख़ को अपने लिए गौरव का स्रोत मानती हैं।  जिस कौम ने अपने इतिहास को याद रखा वही कौम आज सर बुलन्द है। कहा जाता है कि यदि किसी क़ौम को इस संसार से मिटाना हो तो तलवार की कोई आवश्यकता नहीं है;  बल्कि उसके इतिहास को मिटा दो, एक शताब्दी भी नहीं बीतेगी कि उस कौम का सर्वनाश हो जायेगा।  क्यों कि? अपनी तारीख को जो कौम भूला देती है  सफ्ह-ए दह्'र से वह खुद को मिटा देती है अंग्रेज व्यापार के लिए भारत आये और बाद में अपनी धाक जमा ली और भारतीय राजाओं को आपस में लड़ाकर खुद को बहुत शक्तिशाली बना लिया और बहुत सारी पूंजी जमा कर ली।  जब अंग्रेजों की ताक़त बढ़ गई तो उन्होंने भारतीयों पर अत्याचार करना शुरू कर दिया।  उनकी हिंसा से सभी ...

7 ستمبر : ایک تاریخی دن

 7 ستمبر ایک تاریخی دن تاجدار ختم نبوّت : زندہ باد ✍️ محمد شہاب الدین علیمی  قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ و الرضوان ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ، ایک طرف جہاں وہ عظیم عالم دین تھے تو دوسری طرف دنیاوی علوم سے بھی آشنا تھے ، ملی و سماجی قیادت کے حامل تھے ، سیاست میں کافی درک  و ملکہ حاصل تھا ۔ آپ کے کارنامے ملت اسلامیہ کے تئیں بہت ہیں ۔ ان میں سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے قادیانیوں کے خلاف محاذ کھولا اور تحفظ ختم نبوّت اور ان لوگوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے انتھک محنت کی ۔ 30 جون 1974ء کو پارلیمنٹ میں بِل پیش کیا ، اس پر جرح و بحث ہوئی ، پھر صرف 2 ماہ 8 دن میں 7 ستمبر 1974ء کو وہ پل پاس ہو گیا اور قادیانیوں کو حکومتی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ، اور 90 سالہ فتنے کی سرکوبی کر دی گئی ۔ آج 7 ستمبر 2024 کو علامہ نورانی کی محنت پر جو قرار داد قادیانیوں کے خلاف پاس ہوئی تھی ، اس کو پورے 50 سال ہو چکے ، الحمد للّٰہ ، اور اس کا گولڈن جوبلی ( Golden Jubilee ) منایا جائےگا۔ علامہ نورانی علیہ الرحمہ اکثر فرمایا کرتے تھے : "قادیانیوں کو غیر م...

اتنی گستاخیوں کی وجہ ؟

 ______اتنی گستاخیوں کی وجہ ؟________               ✍️ محمد شہاب الدین علیمی  وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو   جان   ہیں   وہ   جہان   کی   جان   ہے   تو   جہان   ہے                 آج ہمارے نبی ﷺ کی شان عظیم میں گندی نالی کا ہر باؤلا کتا بھونک دے رہا ہے ، گستاخیوں کا ایک سیلاب ہے ، حضور اکرم جان عالم ﷺ کے ساتھ ساتھ آپ کے عظیم الشان غلاموں کی شان میں بھی کئی بار گستاخیاں کی جا چکی ہیں ، اور کی جاتی رہتی ہیں ۔ مگر باوجود مسلمانوں نے صرف یہ سمجھ لیا ہے کہ سوشل میڈیا پر دو لفظ ہم نے لکھ دیا ، یا احتجاج کر لیا اور ایف آئی آر کروا دیا تو بس یہی کافی ہو گیا ، اور ہم سبکدوش و بری الذمہ ہو گئے ، جب کہ گستاخی کرنے والے کی سزا صرف قتل ہے ، جمہوری ملک بالخصوص غیروں کی حکومت میں اگر چہ یہ کام کسی مسلمان کے لیے درست نہیں ، لیکن سخت قانونی کارروائی ضرور مسلمانوں پر فرض اعظم ہے ۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ جب ...

غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 🌹سید الانبیاء اور سردار اولیاء🌹                 ✍️ محمد شہاب الدین علیمی              آقاے دو جہاں محبوب خدا ﷺ اپنی عمر مبارک کے اخیر حصے میں صوم وصال رکھتے تھے ، صومِ وِصال : ( یعنی سحر و افطار کے بغیر مسلسل روزے رکھنا ) ، یہ دیکھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بھی اس طرح سے روزہ رکھنا شروع کر دیا ، تو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا  «أَيُّكُمْ مِثْلِيْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ» ( بخاري شريف ) ترجمہ : تم میں کون ہے میری طرح ؟ میرا تو حال یہ ہے کہ میں رات گزارتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۔               اب سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان سنیں۔ قصیدہ غوثیہ شریف میں سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے : ‌                     فَمَنْ فِيْ أَوْلِيَاءِ اللّٰهِ مِثْلِيْ   ...

ایک حدیث پاک پر شہبات اور اس کے جوابات

  ایک حدیث پاک پر اعتراضات اور ان کے جوابات : ‌✍️ محمد شہاب الدین علیمی ، گورکھپور  کلیہ اصول الدین ، جامعۃ الازہر ، مصر تمہید : اسلام امن و آشتی کا دین ہے ،  رحمت و سلامتی کا دین ہے ، اپنے ابتدائی ایام سے آج تک اپنی حقانیت کی بنیاد پر پوری دنیا میں مسلسل پھیلتا جا رہا ہے ، اسلام کی اس روز افزوں رفعت و بلندی سے دشمنان اسلام دل ہی دل میں کڑھتے ہیں ، پھر اسلام اور اہل اسلام پر طعن و تشنیع شروع کرتے ہیں ، طرح طرح کے الزامات و اتہامات گڑھتے ہیں ، اسلام کی خوبصورت تصویر کو مسخ کرنے کی ہر ممکن سعی کرتے ہیں ، اس مبارک دین کا چہرہ بگاڑنے میں کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے ، کبھی اسلام کو دہشتگردی کی تعلیم دینے والا دین کہتے ہیں ، تو کبھی تلوار کے زور پر پھیلنے والا دین گردانتے ہیں ، کبھی یہ کہتے ہیں کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو صرف قتل و قتال اور تدمیر و ہلاک پر آمادہ کرتا ہے ، تو کبھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر یہ تہمت باندھتے ہیں کہ وہ تمام لوگوں کو قتل کرنے کے لیے جلوہ گر ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ بہت سارے افتراءات و اتہامات ہیں ، اس مقصد خبیث کی تکمیل کے لیے اسلام کے مصدرین ...

فضل اللغة العربية و أهميتها

 _______فضل اللغة العربية و أهميتها_______                ✍️ محمد شهاب الدين العليمي             الطالب بجامعة الأزهر الشريف ، مصر تمهيد :          إن الله -تعالت حكمته و جلت عظمته- خلق الناس من نفس واحدة -وهو سيدنا آدم عليه السلام- و خلق منها زوجها حواء -رضي الله تعالى عنها- و بث منهما كثيرا من الرجال و النساء ، و علمه أسماء الأشياء و أصول اللغات ، والناس مختلفون في ألستنهم على الرغم من أصلهم واحد ، و هذا الاختلاف يعد من آيات الله تعالى ، قال تعالى : وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ (22)           لا يخفى على من له أدنى مسكة ما للغةِ العربية من أهميةٍ عظمى في كونها لغة القرآن الكريم والسنة المطهرة، وكونها جزءًا من ديننا، بل لا يمكنُ أن يقومَ الإسلام إلا بها، ولا يصح أن يقرأَ المسلم القرآنَ إلا بالعربية، وقراءة القرآن ركنٌ من أركانِ الصلاة، التي هي ركن من ...

غیر اللہ سے مدد مانگنا کیسا؟

 کیا غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے ؟ ✍️ محمد شہاب الدین علیمی  شرک کی تعریف : شرح العقائد النسفية میں ہے : "الإشراك ھو إثبات الشریك فی الألوھیة بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الأصنام"  ۔ اشراك یعنی شرك ﷲ تعالٰی کی الوہیت میں کسی کو شریك سمجھنا ہے یعنی وجوب وجود میں شریك ماننا جیسے مجوس ، یا عبادت کے استحقاق میں شریك بنانا جیسے بتوں کے پجاری۔  امام قرطبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : "أصله أي الشرك اعتقاد شريك لله تعالى في ألوهيته" یعنی اللہ تعالی کی الوہیت میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ( تفسير القرطبي سورة نساء تحت آية ٣٦ ) اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتاوی رضویہ شریف فرماتے ہیں: "آدمی حقیقۃ کسی بات سے مشرك نہیں ہوتا جب تك غیر خدا کو معبود یا مستقل بالذات و واجب الوجود نہ جانے۔" ( ج ٢١ ص ١٣١ ) حضور صدر شریعہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں : "غیر خدا کو واجب الوجود یا مستحق عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا شرک ہے ، شرک کفر کی سب سے بدترین قسم ہے اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقتا شرک نہیں ، ولہٰ...

حضور خواجہ غریب نواز اور اعلی حضرت کی عقیدت

 حضور خواجہ غریب نواز اور اعلی حضرت کی عقیدت  محمد شہاب الدین علیمی ٦ رجب المرجب ١٤٤٦ھ  امام اہل سنن ، فخر زمین زمن ، مجدد دین و ملت سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے ولیوں سے بڑی عقیدت تھی ، اور ہو بھی نہ کیوں ، کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ، اور ان سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے ، بالخصوص سرکار غریب نواز خواجہ معین الحق والدین چشتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات سے آپ کو گہری عقیدت تھی ، اسی در کی خاک سے آپ کی آنکھ کی تکلیف دور ہوئی ، کئی طبیبوں کو دکھایا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا ، ایسی عقیدت کہ آپ نے صرف اجمیر کہنے سے منع فرمایا اور اجمیر شریف کہنے کا ذہن دیا ، مقام اجابت میں در خواجہ کا ذکر فرمایا ، تقریبا دو بار اس بارگاہ اقدس میں حاضری سے مشرف ہوئے ، ذیل میں کچھ عقیدت کی باتیں پیش ہیں ، باصرہ نواز فرمائیں۔ مسئلہ : حضرت خواجہ معین الدیں سجزی قدس سرہ کو غریب نواز کے لقب سے پکارنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب : حضرت سلطان الہند معین الحق والدین ضرور غریب نواز ہیں۔ ( ملتقطا فتاوی رضویہ شریف ج ٢٩ ص ١٠٥ ) 'احسن الوعاء لآداب الدعاء' کے نام سے رئیس المت...