فقہی اختلاف کے اسباب

 


_____تدوین کے باوجود فقہی اختلاف کے اسباب :______

______حقیقت ، حکمت اور تاریخی پس منظر________


بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب مذاہب فقہیہ مدون ہو گئے تو امت کو ایک ہی فقہی رائے پر جمع کر دینا چاہیے تھا جس میں صرف سنت کی پیروی کی جاے اور غیر سنت کو ترک کر دیا جاے ۔


حقیقت یہ ہے کہ یہ تصور مسئلے کی حقیقت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ مذاہبِ فقہیہ کی تدوین کے باوجود اختلاف کے باقی رہنے کے چند بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:


1- اختلاف فطرت کا لازمی تقاضا ہے


انسانوں کے درمیان، بالعموم اور علماء کے درمیان بالخصوص، اختلافِ رائے ایک فطری اور ناگزیر امر ہے۔ اس ک999999lllی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ادراک، فہم، قوتِ استنباط، تصور، دور اندیشی، قوتِ حافظہ، نصوص کے درمی / /ان تطبیق، اور ماضی و حال کو باہم مربوط کرنے کی صلاحیت میں یکساں نہیں بنایا، بلکہ ان میں تفاوت رکھا ہے۔ جب یہ صلاحیتیں مختلف ہوں گی تو نتائجِ فکر بھی مختلف ہوں گے، اور یہی اختلافِ فقہ کی بنیاد ہے۔


2- اگر اللہ تعالیٰ اختلاف کا ارادہ نہ فرماتا تو اس کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی


اگر اللہ تعالیٰ مسائلِ فرعیہ میں اختلاف کو باقی رکھنا نہ چاہتا تو ایسے واضح اور قطعی احکام نازل فرماتا جن میں کسی اجتہاد یا اختلاف کی گنجائش نہ رہتی، اور اپنے محبوب ﷺ کو بھی یہی حکم دیتا کہ تمام جزئیات اس قدر صراحت سے بیان فرمائیں کہ کسی تاویل یا استنباط کی ضرورت پیش نہ آئے۔


مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خود عہدِ نبوی ﷺ میں صحابۂ کرام کے درمیان بعض مسائل میں اختلاف ہوا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ اس کی روشن مثال غزوۂ بنو قریظہ کا واقعہ ہے، جب آپ ﷺ نے فرمایا:


««لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ»»


"تم میں سے کوئی بھی عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نہ پڑھے۔"


(صحیح بخاری، حدیث: 946 و صحیح مسلم)


راستے میں عصر کا وقت ہوگیا تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ سمجھتے ہوئے کہ مقصود جلد از جلد بنو قریظہ پہنچنا ہے، راستے ہی میں نماز ادا کر لی، جبکہ دوسرے حضرات نے الفاظِ حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے بنو قریظہ پہنچ کر نماز پڑھی، اگرچہ وقت گزر چکا تھا۔


رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں سے کسی فریق کو ملامت نہیں فرمائی۔ اگر اس قسم کا اجتہادی اختلاف ناجائز یا قابلِ انکار ہوتا تو آپ ﷺ ضرور وضاحت فرماتے، کیونکہ نماز جیسے اہم معاملے میں وقتِ حاجت پر بیان کو مؤخر کرنا جائز نہیں۔


3- شریعت نے اہل علم کو استنباط و اجتہاد کا مکلف بنایا ہے


اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کو حکم دیا ہے کہ وہ قرآن و سنت میں غور و فکر کرکے احکامِ شرعیہ کا استنباط کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:


«﴿وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ...﴾

(سورۃ النساء: 83)»


ترجمۂ کنز الایمان:

"اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں، اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بات میں کاوش کرتے ہیں۔۔۔


اس آیت کے تحت خزائن العرفان میں ہے:


«"مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ قیاس جائز ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم وہ ہے جو قرآن و حدیث سے صراحتاً حاصل ہوتا ہے، اور ایک علم وہ ہے جو قرآن و حدیث سے استنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔"»


جب خود شریعت نے اہلِ علم کو استنباط کا حکم دیا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علماء کے فہم، ادراک، اصولِ استدلال اور قوتِ اجتہاد میں تفاوت پایا جاتا ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ بعض فروعی مسائل میں ان کے اجتہادی نتائج بھی مختلف ہوں گے۔ یہی اختلاف بعد میں مذاہبِ فقہیہ کی صورت میں مدون ہوا، اور یہ اختلاف تضاد یا دین میں تفرقہ نہیں، بلکہ نصوصِ شرعیہ کے فہم و استنباط کا فطری اور علمی نتیجہ ہے۔


4- صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف اور اجتہاد کی وسعت


صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان بعض فقہی مسائل میں اختلاف رائے موجود تھا، وہ اس دنیا سے تشریف لے گئے مگر ان مسائل پر ایک ہی رائے پر مجتمع نہ ہوئے۔ اگر تمام فروعی مسائل میں اتفاق ممکن ہوتا تو یقیناً وہی حضرات سب سے پہلے اس پر متفق ہو جاتے؛ کیونکہ وہ امت کے اتحاد اور اختلاف کے ازالے کے سب سے زیادہ خواہاں تھے۔ لیکن انہیں بخوبی معلوم تھا کہ ان کا اختلاف ان مسائل میں ہے جن میں اختلاف کی گنجائش ہے۔


اسی طرح بعد کے ادوار میں بھی کتاب و سنت سے احکامِ شرعیہ کے استنباط میں مجتہدین و ائمہ کے درمیان اختلاف ایک فطری اور ناگزیر امر تھا۔ عہدِ صحابہ میں –جبکہ اسلام ابھی محدود علاقوں تک تھا– اجتہادی اختلاف موجود تھا تو اسلامی فتوحات کے بعد، جب اسلام مشرق و مغرب تک پھیل گیا، اس اختلاف کا مزید وسعت اختیار کرنا ایک بدیہی امر تھا۔ پھر صدیوں کے گزرنے کے ساتھ، نئے مسائل اور مختلف حالات کے پیدا ہونے پر اختلاف کا بڑھ جانا بالکل طبعی تھا۔


5- شریعت کی وسعت اور اختلاف کی حکمت


شریعت اسلامیہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے آخری اور کامل شریعت ہے، جو ہر زمانے، ہر علاقے اور ہر حالت کے لیے مناسب ہے۔ اگر ہر جزوی اور اجتہادی مسئلے میں صرف ایک ہی حکم مقرر کر دیا جاتا تو بہت سے لوگوں کے لیے شدید دشواری اور تنگی پیدا ہو جاتی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے حرج اور مشقت کو دور فرمایا ہے۔ اسی لیے اجتہادی مسائل میں تعدد آراء، درحقیقت شریعت کی وسعت، آسانی اور رحمت کا مظہر ہے۔


6- فقہی مذاہب کے استقرار کی تاریخی حقیقت


جیسا کہ ذکر ہو چکا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان استنباط احکام میں اجتہادی اختلاف موجود تھا۔ اسلامی فتوحات کے بعد وہ مختلف شہروں اور علاقوں میں پھیل گئے، اور ہر علاقے کے لوگوں نے اپنے ہاں مقیم صحابۂ کرام سے دین کا علم حاصل کیا۔ پھر تابعین اور تبع تابعین نے انہی صحابہ سے احادیث، آثار اور فقہی اجتہادات روایت کیے اور آگے منتقل کیے۔


یوں ہر علاقے میں وہی علمی سرمایہ عام ہوا جو وہاں کے علماء اور محدثین کے ذریعے پہنچا، اور لوگ اسی کے مطابق عمل پیرا ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف فقہی مناہج مستحکم ہوتے گئے اور لوگ اپنے اپنے فقہی طریقوں سے مانوس ہو گئے۔ ایسے حالات میں انہیں ان کے رائج طریقۂ عمل سے ہٹا کر ایک ہی فقہی رائے پر جمع کرنا نہایت دشوار بلکہ مصلحت کے خلاف تھا۔


اسی حقیقت کے پیش نظر امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلیفہ ابو جعفر المنصور کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ تمام مسلمانوں کو 'الموطأ' کے مطابق ایک ہی فقہی مسلک کا پابند بنا دیا جائے۔


حافظ ابن سعد 'الطبقات الکبری' میں حضرت محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"جب خلیفہ ابو جعفر المنصور حج کے لیے آیا تو اس نے مجھے بلوایا۔ مختلف علمی مسائل پر گفتگو کے بعد اس نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ آپ کی کتاب 'الموطأ' کے متعدد نسخے تیار کرا کے اسلامی مملکت کے ہر بڑے شہر میں بھیج دوں، اور لوگوں کو حکم دوں کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں اور اس کے علاوہ دیگر آراء ترک کر دیں؛ کیونکہ میرے نزدیک صحیح علم اہل مدینہ کی روایات اور ان کے فقہ میں محفوظ ہے۔"


امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:

"اے امیر المؤمنین! ایسا ہرگز نہ کیجیے، کیونکہ لوگوں تک مختلف احادیث و آثار پہنچ چکے ہیں، انہوں نے انہیں قبول کر لیا ہے اور انہی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ہر علاقے کے پاس وہ علمی سرمایہ موجود ہے جو وہاں کے علماء کے ذریعے پہنچا، اور وہ اسی پر قائم ہیں۔ اب انہیں ان کے اختیار کردہ طریقے سے ہٹانا نہایت دشوار ہوگا۔ لہٰذا لوگوں کو ان کے حال پر رہنے دیجیے، اور ہر شہر کے باشندوں کو اسی فقہی روایت پر باقی رہنے دیجیے جو ان کے ہاں رائج ہو چکی ہے۔"

یہ سن کر ابو جعفر المنصور نے کہا:

"اللہ کی قسم! اگر آپ میری اس رائے سے اتفاق کر لیتے تو میں یقیناً اسے نافذ کر دیتا۔"

[طبقات ابن سعد ، ج 5 ص 468 ، ط : دار الکتب العلمية 1410ه‍/1990ء ، تاريخ الطبري ، ج 11 ص 659-660 ، تحقيق : محمد أبو الفضل إبراهيم ، ط : دار المعارف ، الطبعة الثانية]


اسی نوعیت کا واقعہ خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بھی پیش آیا۔


مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہارون الرشید نے اپنے وزیر یحییٰ بن خالد البرمکی کو امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ الموطأ لے آئیں اور خلیفہ اسے سماعت کرے۔

امام مالک نے فرمایا : "امیر المؤمنین کو میرا سلام کہنا، اور عرض کرنا کہ علم کے پاس آیا جاتا ہے، علم کسی کے پاس نہیں جاتا۔"


یحییٰ نے خلیفہ کو یہ پیغام پہنچایا اور کہا کہ آپ خود تشریف لے جائیں ، اتنے میں امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود تشریف لائے ، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ خلیفہ نے کہا : "اہلِ عراق کو یہ خبر پہنچی ہے کہ میں نے آپ سے ایک معمولی سی درخواست کی تھی اور آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔"


اس پر امام مالک نے فرمایا : "اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلافت جیسے عظیم منصب سے سرفراز فرمایا ہے۔ میں نے آپ سے کم مرتبہ لوگوں کو بھی علم کی تعظیم کرتے دیکھا ہے۔ لہٰذا آپ علم کی بے توقیری کرنے والے پہلے شخص نہ بنیں، ورنہ اللہ تعالیٰ آپ کو رسوا کرے گا۔ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ علم کا احترام کریں، اسے حاصل کریں اور اس پر عمل کریں۔"


یہ نصیحت سن کر ہارون الرشید کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔


بعد ازاں امام مالک نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وہ روایت بیان فرمائی جس میں آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ میں بعد میں ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ کے اضافہ کا واقعہ مذکور ہے۔ روایت کے اختتام پر امام مالک نے فرمایا: "اے امیر المؤمنین! قرآن کے صرف اس ایک مختصر ٹکڑے ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام پچاس ہزار سال کا راستہ طے کرے وحی لے کر نازل ہوئے، تو کیا میرے لیے لازم نہیں کہ میں علم کی کامل تعظیم کروں؟"


ہارون الرشید نے جواب دیا: "کیوں نہیں!"


اس کے بعد خلیفہ امام مالک کے گھر آیا اور ان سے الموطأ کی سماعت کی۔


اسی مجلس میں ہارون الرشید نے یہ خواہش ظاہر کی کہ پوری امت کو امام مالک کے فقہی مذہب پر جمع کر دیا جائے، لیکن امام مالک نے فرمایا: "ایسا نہ کیجیے، کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فروعی مسائل میں مختلف اجتہادات رکھتے تھے، پھر وہ مختلف شہروں میں منتشر ہو گئے، اور ہر علاقے میں انہی کے فقہی آثار رائج ہو گئے۔ احادیث نبویہ مختلف بلاد تک پہنچ چکی ہیں، اور علماء نے انہیں آگے منتقل کر دیا ہے۔ لہٰذا لوگوں پر تنگی نہ کیجیے، بلکہ انہیں ان کے معتبر فقہی مذاہب پر باقی رہنے دیجیے۔"

[ سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي لعبد الملك الشافعي العصامي المتوفى 1111ه‍ ، ج 3 ص 424-425 ، ط : دار الكتب العلمية 1419ه‍/ ‍1998ء]


7- اجتہاد کی آزادی اور علماء کا مقام


اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور انہیں اس عظیم ذمہ داری کے ذریعے آزمایا ہے، تاکہ وہ کتاب و سنت کی روشنی میں احکام شرعیہ کا استنباط کریں ۔ علماء اپنے علم، فہم اور بصیرت کے مطابق نصوصِ شرعیہ میں غور و فکر کرتے ہیں ، احکامِ الٰہی کے دقائق و اسرار کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔


اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلند فرمائے، ان کا مقام عظیم کیا اور انہیں انبیاء علیہم السلام کے وارث ہونے کا شرف عطا فرمایا۔


اس کے برعکس جو لوگ شریعت میں تحریف کرتے ہیں اور علم میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت وعید اور دنیا و آخرت میں شدید عقاب کے مستحق ہیں۔


خلاصہ یہ ہے کہ فقہی اختلاف کتاب و سنت سے اعراض کا نتیجہ نہیں، بلکہ انہی نصوص کے فہم و استنباط کا فطری ثمرہ ہے۔ اختلاف عہد صحابہ سے چلا آ رہا ہے، ائمہ مجتہدین نے اسے اصول و ضوابط کے تحت مرتب کیا، اور امت نے اسے علمی تنوع اور شریعت کی وسعت کے طور پر قبول کیا۔ لہٰذا فقہی مذاہب کا وجود امت کے لیے تفرقہ نہیں بلکہ رحمت، وسعت اور علمی میراث ہے۔


✍️ محمد شہاب الدین علیمی

20 / جولائی 2026ء

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ اغیار کی نظر میں

حضرت خواجہ ابو الحسن خرقانی

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ