اشاعتیں

طلبہ کرام کے لیے کچھ ضروری امور

 🌹 طلبۂ کرام کے لیے کچھ ضروری امور 🌹 ✍️ محمد شہاب الدین علیمی بڑے مقاصد کڑی محنت اور لمبا وقت طلب کرتے ہیں ۔ بالخصوص علم دین مصطفی ﷺ حضرت امام ابو یوسف قاضی القضاۃ فی الاسلام رضی اللّٰهُ تعالی عنہ فرماتے ہیں : إن هذا العلمَ لا يعطيك بعده شيئا حتى تعطيَه كلَّه یعنی جب تک تم علم دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان نہ کر دوگے ، تب تک تمہیں علم کا کچھ بھی حصہ حاصل نہ ہوگا۔ جو شخص علم کی طلب میں پریشانیاں اور دقتیں برداشت کرتا ہے ، آسائش و آرام کا خیال نہیں کرتا ہے ، میٹھی میٹھی نیند کو قربان کرتا ہے ، جو کچھ مل جائے اسی پر صبر و قناعت کر لیتا ہے ، لوگوں سے تعلقات کم رکھتا ہے ، وہی شخص کامیاب ہوتا ہے امام شافعی رضی اللّٰهُ تعالی عنہ فرماتے ہیں : أخي ! لن تنال العلم إلا بستة سأنبئك عن تفصيلها ببيان ذكاء و حرص واجتهاد و بلغة إرشاد أستاذ و طول زمان یعنی اے بھائی! چھ چیزوں کے بغیر تجھے علم حاصل نہیں ہو سکتا ، وہ چیزیں یہ ہیں *ذہن روشن اور تیز ہو ، علم کی بہت زیادہ لالچ ہو ، راہ علم میں سخت محنت و جد و جہد ہو ، ہلکی پھلکی خوراک پر قناعت ہو ، استاذ کی رہنمائی ہو اور ایک لمبا عرصہ طلب علم میں صرف ہ...

مبلغ اسلام ، مختصر سوانح

 عرس مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مہاجر مدنی علیہ الرحمہ  دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی کے بانیِِ روحانی داعی دین مبلغ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ نے تقریبا سَتّر ہزار لوگوں کو کلمہ پڑھایا ۔اپنے ذاتی مال سے بہت سارے ممالک کا دورہ کر کے اسلام کو پھیلایا ۔تبلیغ کے لیے افریقہ کے ایک ایسی جگہ بھی پہنچے جہاں کے لوگ ننگے رہتے تھے ، کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ جب آپ نے ان کو پہننے کے لیے کپڑے دیے تو وہ اتنے جاہل و گنوار تھے کہ قمیص کو پیر میں ڈالنے لگے اور پاجامے کو ہاتھوں میں پہننے لگے ۔ ایسے لوگوں کو بھی مبلغ اسلام نے کلمہ پڑھایا ۔ یہ مبلغ اسلام پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ ایسے جاہل اور بدّو لوگوں  کے اندر بھی اسلام کی شمع روشن کی۔  اعلی حضرت رضی اللّٰهُ تعالی عنہ کے چہیتے خلیفہ تھے ۔ ان کے بارے میں اعلی حضرت رضی اللّٰهُ تعالی عنہ لکھتے ہیں : عبد علیم کے علم کو سن کر جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں ٢٢ ذی الحجہ شریف کو مدینہ شریف میں آپ کا انتقال ہوا اور جنت البقیع میں آپ کو دفن کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر انور پر رحمت کی بارش ف رمائے ۔

شیخ الحدیث حضور قمر العلماء کا انداز تدریس

 🌹حضور قمر العلما کا انداز تدریس _مشاہدات کے آئینے میں 🌹 ✍️ محمد شہاب الدین علیمی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا علماء کرام کی عزت و عظمت کا ذکر فرمایا ہے۔ احادیث رسول ﷺ میں بھی علماء دین کے فضائل و مناقب کا جگہ جگہ تذکرہ ہے ۔ ان فضیلتوں کی جامع شخصیات میں حضور قمر العلماء حضرت علامہ و مولانا محمد قمر عالم قادری صاحب قبلہ کا نام حد درجہ نمایاں ہے ۔ جو علم آپ کے سینے میں موجود ہے ، وہ کردار سے جھلکتا ہے ، اخلاق اس کی گواہی دیتے ہیں ، گفتار اس کا ثبوت دیتے ہیں ۔آپ کی ذات بابرکات *العالم ھو العامل* کی مصداق ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ایسی بافیض شخصیت کے سائے تلے مجھے سات سال تک علم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ حضرت کے پڑھانے کا انداز کیا تھا ، اس کو آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ خیر الکلام ما قل و دل سب سے بہترین کلام وہ ہے جو مختصر ہو اور مقصد تک پہنچا دے ۔ حضرت شیخ صاحب قبلہ کی عادت کریمہ تھی کہ بہت مختصر کلام فرماتے لیکن وہ کلام اپنے افراد کو جامع اور محیط ہوتا ۔ کتابوں کی تعریفات کے علاوہ حضرت اپنی مختصر اور جامع مانع تعریف بیان فرماتے ۔ مثلا دلالت وضعیہ لفظیہ : وضعِ واضع کے سبب لفظ ...

المولد النبوي الشريف

 المولد النبوي الشريف  محمد شهاب الدين العليمي  الطالب بكلية أصول الدين ، جامعة الأزهر الشريف  الحمد لله الذي شرف هذا العالم بمولد نبيه ، و خصه بمحاسن أخلاقه ،و الصلاة والسلام على أفضل عباده و على آله و أصحابه . أما بعد! قال تعالى : لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عندتم حريص عليكم بالمؤمنين رؤوف رحيم نبينا عليه الصلاة والسلام رحمة مهداة للعالمين ، و من الله علينا إذ بعث فينا أفضل خلقه و جعلنا من أمته الغراء ، قال الله عزوجل: "لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولا من انفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين" ( آل عمران : 164) ، وهو سيد الأولين والآخرين و حبيب رب العالمين الذي خلق نوره من نوره و آدم بين الماء والطين ، و نقله من الأصلاب الطاهرة إلى الأرحام الزكية ، و فضله على الأنبياء والملٰئكة وهو سيدنا و مولانا و مأوانا و ملاذنا و ذخرنا أبو القاسم محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤى بن غالب بن فهر بن مالك بن نضر . وهو عليه الصلاة والسلام من قريش أفضل قبائل العرب ...

مدارس کے حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں ؟

 مدارس کے حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں ؟ ✍️محمد شہاب الدین علیمی  دین اسلام کی تعلیمات کی بنیاد مدارس پر ہے ، مدارس اسلامیہ دین کا مضبوط قلعہ ہیں ، اگر یہ سلامت نہ رہے یا مضبوط نہ ہوئے تو پھر ہمارے عقیدے محفوظ نہ رہیں گے ، ہمارا دین لوٹ لیا جائےگا ، اگر ہم نے اپنے مدارس کو مضبوطی نہ دی تو ہم اپنی عوام کا عقیدہ محفوظ نہ رکھ سکیں گے ، اس کے لیے امیر لوگ بالخصوص خانقاہیں جو پیسوں سے بھرتی جا رہی ہیں اور اہلیان خانقاہ دین کا کام ایک پیسے کا نہیں کرتے ہیں ، صرف اپنا بنگلہ بڑا ہوتا جارہا ہے ، دن بہ دن گاڑیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ( الا ما شاء اللّٰہ ) ، ان کی ذمہ داری ہے خوب پیسہ خرچ کریں ، تاکہ کتاب ، طلبہ کے قیام و طعام ، روشنی و دیگر ضروریات اور بہترین اساتذہ کی کمی نہ ہو ۔ دوسری چیز یہ کہ مدارس کے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ٹرانسفارم ہو ، جو کچھ مدارس کے ذمہ دار علماء کی تنظیم بنائے ، اور ہر ایک کو چند ( مثلا دس ) مدرسوں کی ذمہ داری دے اور وہ ان دس مدارس سے ایک دو اساتذہ کو لے کر ان سب کی تنظیم بنا لیں ۔  یہ کام اسی وقت ہوگا جب خلوص اور نیک نیتی ہو ، ...

ایک شعر کی تشریح

 اس شعر کی تشریح  عبد علیم کے علم کو سن کر  جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رسالہ بنام "الاستمداد علی اجیال الارتداد" تصنیف فرمایا جس میں٣٦٠ اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ تحریر فرمایا ، جس میں حضور اکرم ﷺ کی مدح ہے ، اس کے بعد بشکل اشعار دیوبندیوں اور وہابیوں کے ٢٣٠ اقوال کفر و ضلال کا بیان ہے ، اور اخیر میں اپنے خلفاء کرام کا تذکرہ فرمایا ہے ، جس کی ابتدا یوں ہے تیرے رضا پر تیری رضا ہو اس سے غضب تھرّاتے یہ ہیں بلکہ رضا کے شاگردوں کا نام لیے گھبراتے یہ ہیں اس کا گیارہواں شعر ہے عبدِ علیم کے علم کو سن کر  جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں بہل کا معنی بیل گاڑی ہوتا ہے  شعر کا مطلب: اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما رہے ہیں کہ میرے عظیم خلیفہ حضرت مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی کے فہم و ادراک ، بصیرت و لیاقت اور علم کو جب یہ دیوبندی اور وہابی سنتے ( دیکھتے )ہیں تو فوراً وہاں سے اپنی جہالت کی گاڑی لے کر بھاگ نکلتے ہیں ، اور میرے عبد علیم سے مقابلے کرنے کی جرأت و ہمت ان میں باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔