سن ہجری کا آغاز : کب ، کیوں اور کیسے؟
ہجری کیلینڈر کا آغاز : کب ، کیوں اور کیسے؟
🔹 امام سیوطی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "الشماريخ في علم التاريخ" میں امام شعبی سے منقول ایک روایت ذکر کرتے ہیں : "جب حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں تشریف لاے اور ان کی اولاد دنیا میں پھیل گئیں تو ان لوگوں نے تاریخ کی ابتدا اس دن سے کی جس دن حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں تشریف لاے تھے ، یہ تاریخ حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت تک چلتی رہی۔
اس کے بعد لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کو آغاز تاریخ قرار دیا اور اس دن سے نئی تاریخ کی ابتدا کی ، اس کے بعد طوفان نوح آیا اور لوگ ہلاک ہو گئے سواے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوئی ۔
پھر ان میں سے صرف نوح علیہ السلام کی نسل ہی آگے بڑھی اور آپ کی اولاد دنیا میں منتشر ہوئی۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے :پسماندگانِ طوفان سے کسی کی نسل نہ بڑھی صرف نوح علیہ السلام کی نسل تمام دُنیا میں ہے ۔ قرآنِ عظیم فرماتا ہے:وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَه ھمُ الْبٰقِیۡنَ ٘ۖ(۷۷)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی۔(پ۲۳،الصافات:۷۷)۔اسی لئے انہیں آدمِ ثانی کہتے ہیں ۔)تفسیر روح البیان)(ملفوظات اعلی حضرت ، صفحہ129،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مذکورہ آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ” اب دنیا میں جتنے انسان ہیں سب حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کشتی سے اُترنے کے بعد ان کے ہمراہیوں میں جس قدر مرد و عورت تھے سبھی مر گئے سوا آپ کی اولاد اور ان کی عورتوں کے ، انہیں سے دنیا کی نسلیں چلیں۔“(خزائن العرفان، صفحہ830،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جب حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد دنیا میں پھیل گئی تو انہوں نے طوفان نوح (علیہ السلام) سے تاریخ کا آغاز فرمایا ، اور یہ تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے تک چلتی رہی ۔
پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد نے نار ابراہیم سے تاریخ کی ابتدا ، بعثت سیدنا یوسف علیہ السلام تک ، پھر بعثت یوسف علیہ السلام سے بعثت موسی علیہ السلام ، پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب سلطنت ملی ، پھر عیسی علیہ السلام کی بعثت ، پھر بعثت عیسی علیہ السلام سے حضور ﷺ تک۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد نے نار ابراہیم علیہ السلام سے بیت المقدس بناے جانے تک کو مبدأ تاریخ قرار دیا ۔
پھر اس کے بعد اہل عرب مختلف واقعات کو مبدأ تاریخ بناتے تھے ، جیسے یوم جبلہ ، کلاب اول اور عام الفیل، رومی عہد سکندر سے تاریخ شمار کرتے تھے، جبکہ فارسی اپنے ہر بادشاہ کے عہد سے نئی تاریخ کا آغاز کرتے تھے۔
🔹 تاریخ ہجری کا آغاز کب ، کیوں اور کیسے ہوا ؟
ابن شہاب زہری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ جب مدینہ شریف تشریف لائے تو آپ نے ہجری تاریخ کا حکم دیا ، امام ابن عساکر نے اس روایت کو اصوب کہا ، اور ایک دوسری روایت جو اس کی تائید کرتی ہے وہ یہ ہے جس کو امام ابن صلاح نے بیان فرمایا ہے کہ امام ابو طاہر ابن محمش الزیادی نے اپنی کتاب "فی الشروط" میں بیان فرمایا ہے کہ حضور ﷺ نے ہجری تاریخ لکھنے کا حکم فرمایا جب نجران کے نصاری کو خط لکھا گیا ، اس میں فرمایا کہ لکھو یہ خط 5 ہجری میں لکھا گیا ۔
( الشماريخ في علم التاريخ للإمام السيوطي ، الباب الأول في مبدأ التاريخ ، تحقيق و تعليق : أنور محمود زناتي ، جامعة عين شمس ، مصر )
ان بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں ہجرت کو وقت کی تعیین کے لیے استعمال کیا گیا، تاہم باقاعدہ اسلامی تقویم کی تدوین اور سرکاری نفاذ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوا۔
🔹 حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا خاص اہتمام فرمایا ، اس میں چند وجوہ ذکر کیے جاتے ہیں ، فتح الباری اور البدایہ والنہایہ کے حوالے سے ان میں سے کچھ کا ذکر یہاں کر رہا ہوں۔
امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک باب باندھا ، باب التاریخ ، اور اس کا ترجمہ لکھا : "من أین أرخوا التأریخ"
، اس ترجمہ کے تحت حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ذکر کی : "لوگوں نے حضور ﷺ کی بعثت یا وصال کو تاریخ نہیں بنایا ، بلکہ آپ ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف لانے کو تاریخ بنایا" ( صحيح البخاري ، رقم الحديث : 3934 )
🔹 اس حدیث شریف کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
١) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا: "ہمارے پاس آپ کی طرف سے ایسے خطوط آتے ہیں جن پر کوئی تاریخ درج نہیں ہوتی۔" چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے مشورے کے لیے لوگوں کو جمع کیا ، بعض لوگوں نے کہا: "نبی کریم ﷺ کی بعثت سے تاریخ کا آغاز کیجیے۔" اور بعض نے کہا: "رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے۔" تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "بلکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے تاریخ مقرر کریں گے، کیونکہ آپ کی ہجرت حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے ، یہ 17 ہجری میں ہوا ، 16 اور 18 کا بھی ذکر آیا ہے ، جب سال پر اتفاق ہو گیا تو مہینے میں اختلاف ہوا ، بعض نے رمضان کہا ، بعض نے رجب ، بعض نے ذوالحجہ ، فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا محرم ، کیوں کہ لوگ اس مہینے میں حج سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں، اور محرم میں ہی ہجرت کا عزم ہوا
یہ روایت امام شعبی سے ہے۔
( اس سے ربیع الاول شریف کے بجاے محرم الحرام سے آغاز تاریخ ہونے کا جواب بھی مل گیا )
٢) اور میمون بن مہران کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دستاویز پیش کی گئی جس کی ادائیگی کا وقت "شعبان" تھا۔ انہوں نے پوچھا: "کون سا شعبان؟ کیا وہ جو گزر چکا ، یا وہ شعبان جو آنے والا ہے یا وہ شعبان جس میں ہم ابھی موجود ہیں؟" پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے فرمایا: "لوگوں کے لیے کوئی ایسی چیز وضع کرو جسے وہ پہچان سکیں اور سمجھ سکیں"۔
کچھ روایتوں میں ہے کہ ہجرت نبوی کو تاریخ مقرر کرنے کا مشورہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تھا اور پھر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو قبول فرمایا۔
( فتح الباری شرح صحیح البخاری للإمام ابن حجر العسقلانی جلد 7 ص 315 ، ط : دار الريان للتراث ، 1986ء )
🔹 البدایہ والنہایہ میں امام ابن کثیر ذکر کرتے ہیں :
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے سنہ 16 ہجری (اور بعض کے نزدیک 17 یا 18 ہجری) میں، خلافت فاروقی کے دور میں، اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی تاریخ کا آغاز ہجرتِ نبوی ﷺ سے کیا جائے۔
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دستاویز (قرض کی تحریر) پیش کی گئی جس میں لکھا تھا کہ قرض شعبان میں ادا کیا جائے گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کون سا شعبان؟ کیا یہ موجودہ سال کا شعبان ہے، گزشتہ سال کا، یا آئندہ سال کا؟"
اس کے بعد آپ نے صحابۂ کرام کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ ایک ایسا باقاعدہ تقویم (تاریخ) مقرر کی جائے جس کے ذریعے قرضوں کی مدت اور دیگر معاملات کی تعیین ہوسکے۔
ایک شخص نے کہا: "ایران والوں کی طرح تاریخ مقرر کی جائے۔"
مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پسند نہ فرمایا، کیونکہ فارسی لوگ اپنے بادشاہوں کے ادوار کے مطابق تاریخ شمار کرتے تھے، یعنی ایک بادشاہ کے بعد دوسرے بادشاہ کے نام سے تاریخ چلتی تھی۔
ایک اور شخص نے کہا: "رومیوں کی تاریخ اختیار کر لی جائے۔"
لیکن اسے بھی ناپسند کیا گیا، کیونکہ رومی لوگ سکندر بن فِلِبس مقدونی کی حکومت سے تاریخ شمار کرتے تھے۔
پھر بعض صحابہ نے کہا: "رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے تاریخ شروع کی جائے۔"
کچھ نے کہا: "بعثتِ نبوی ﷺ سے۔"
اور بعض نے کہا: "ہجرتِ نبوی ﷺ سے۔"
جبکہ کچھ نے رائے دی: "وصالِ نبوی ﷺ سے تاریخ کا آغاز کیا جائے۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رجحان ہجرت سے تاریخ شروع کرنے کی طرف ہوا، کیونکہ ہجرت ایک نمایاں اور مشہور واقعہ تھا۔ چنانچہ تمام صحابۂ کرام نے اس پر اتفاق کر لیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں "تاریخ کب مقرر کی گئی؟" کے عنوان کے تحت روایت نقل کی ہے:
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"لوگوں نے نہ تو نبی کریم ﷺ کی بعثت سے تاریخ شمار کی اور نہ ہی آپ کے وصال سے، بلکہ صرف آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے سے تاریخ کا آغاز کیا۔"
امام واقدی نے امام ابو الزناد کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ:
"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تاریخ مقرر کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو سب نے ہجرت پر اتفاق کیا۔"
ابو داود طیالسی علیہ الرحمہ نے امام محمد بن سیرین علیہ الرحمہ سے روایت کیا ہے کہ:
ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا:
"تاریخ مقرر کیجیے۔"
آپ نے فرمایا:
"تاریخ کیا چیز ہے؟"
اس نے کہا:
"یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، وہ لکھتے ہیں: فلاں مہینہ، فلاں سال۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"یہ اچھا طریقہ ہے، پس تاریخ مقرر کرو۔"
پھر صحابہ نے سوال کیا:
"ہم کس واقعہ سے سالوں کا آغاز کریں؟"
کچھ نے کہا:
"بعثتِ نبوی ﷺ سے۔"
اور کچھ نے کہا:
"وصالِ نبوی ﷺ سے۔"
لیکن آخرکار سب نے ہجرت پر اتفاق کر لیا۔
اس کے بعد یہ سوال اٹھا:
"سال کا پہلا مہینہ کون سا ہو؟"
بعض نے رمضان کی رائے دی۔
پھر کہا گیا:
"محرم ہونا چاہیے، کیونکہ حج سے واپسی کے بعد لوگ اپنے معاملات کی طرف لوٹتے ہیں، اور یہ حرمت والا مہینہ بھی ہے۔"
چنانچہ سب نے محرم کو سال کا پہلا مہینہ قرار دینے پر اتفاق کر لیا۔
امام ابن جریر طبری نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ وہ سورۂ فجر کی آیت:
﴿وَالْفَجْرِ * وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾
کی تفسیر میں فرماتے تھے:
"اس سے مراد محرم کا فجر ہے، جو سال کا آغاز ہے۔"
اسی طرح عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"محرم اللہ کا مہینہ ہے، یہی سال کا آغاز ہے، اسی میں بیت اللہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا، لوگ اسی سے تاریخ شمار کرتے تھے، اور اسی میں چاندی کے سکے ڈھالے جاتے تھے۔"
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے کہ:
"سب سے پہلے یعلیٰ بن امیہ نے یمن میں خطوط پر تاریخ لکھنے کا آغاز کیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ ربیع الاول میں مدینہ منورہ تشریف لائے، جبکہ لوگوں نے سال کا آغاز محرم سے قرار دیا۔"
محمد بن اسحاق نے امام زہری اور امام شعبی رحمہما اللہ سے روایت کیا ہے کہ:
بنو اسماعیل پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ کے واقعہ سے تاریخ شمار کرتے تھے، پھر بیت اللہ کی تعمیر سے، پھر کعب بن لؤی کی وفات سے، پھر واقعۂ فیل سے، اور بعد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہجرتِ نبوی ﷺ کو تاریخ کا مبدأ قرار دیا، اور یہ واقعہ سنہ 17 یا 18 ہجری میں پیش آیا۔
( البداية والنهاية للإمام ابن كثير ج 3 ص 478-479 ،ط : دار ابن كثير ، 2010ء )
صحیح اور مشہور تاریخی روایات کے مطابق سنہ 16 یا 17 ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورے سے اسلامی تقویم کو باقاعدہ سرکاری شکل دی۔ آغازِ تاریخ کے لیے ہجرت نبوی ﷺ کو مبدأ قرار دیا گیا اور محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ مقرر کیا گیا۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی میں بھی ہجرت کو وقت کی تعیین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
✍️ محمد شہاب الدین علیمی
٢ محرم الحرام ١٤٤٨ھ
١٧ جون / ٢٠٢٦ء

تبصرے